اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پیر کے روز ایک ٹیلی فونک گفتگو میں دوطرفہ تعلقات کی تازہ صورتحال کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس بات کا اعلان ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ کے ذریعے کیا۔
سید عباس عراقچی نے 8 سے 10 جنوری کے دوران ایران میں ہونے والے عوامی مظاہروں کو بیرونی مداخلت کے نتیجے میں پُرتشدد دہشت گردانہ کارروائیوں کی طرف موڑ دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے سری لنکن ہم منصب کو ان اقدامات کی منظم اور دہشت گردانہ نوعیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کارروائیوں کا مقصد امریکہ کو ایران کے خلاف ایک اور جنگ میں گھسیٹنا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف انسانی حقوق سے متعلق قرارداد کی مخالفت میں سری لنکا کی حکومت کے مؤقف کو سراہتے ہوئے اسے ایران کے ساتھ سری لنکا کے آزاد، متوازن اور دوستانہ طرز عمل کی علامت قرار دیا۔
سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے اس موقع پر آزاد ممالک کے خلاف امریکہ کے رویّے کی طرف اشارہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ سری لنکا، ایک دوست ملک کی حیثیت سے، بعض بیرونی مداخلتوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کا پابند رہے گا۔
گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے مختلف شعبوں، بالخصوص اقتصادی اور تجارتی میدانوں میں دوطرفہ تعاون کو جاری رکھنے اور وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی تنظیموں اور دیگر اداروں میں قریبی مشاورت اور رابطے جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ